رابطہ عالم اسلامی کی سعودی عرب پر حوثی دہشت گرد ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت
رابطہ عالم اسلامی کی سعودی عرب پر حوثی دہشت گرد ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت
مکہ مکرمہ: رابطہ عالم اسلامی نے مملکتِ سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کی مسلسل مجرمانہ جارحیت، مسلمانوں کے مقدسات اور ان کے مقدس ترین مقامات، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، نیز مملکت کے دارالحکومت ریاض اور ابہا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع کو بار بار نشانہ بنانے، اور بحیرہ احمر کے جنوبی حصے اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں، سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے ایک بار پھر ان دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں تمام دینی اقدار، بین الاقوامی قوانین اور انسانی روایات کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اس دہشت گرد ملیشیا کی مجرمانہ روش کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملیشیا ان تمام کوششوں کو مسترد کر رہی ہے جن کا مقصد ایک جامع پُرامن اور سیاسی حل کے ذریعے معاملات کو ان کی درست سمت میں واپس لانا اور ان آئینی طریقۂ کار کو بحال کرنا ہے جن کے خلاف حوثی ملیشیا نے بغاوت کی تھی۔
ڈاکٹر العیسی نے رابطہ کے تمام عالمی اداروں، اکیڈمیوں اور کونسلوں، نیز اس کے زیرِ سایہ تمام اسلامی اقوام کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ رابطہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کو روکنے، مملکت کی سلامتی اور قومی وسائل، نیز اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین پر مقیم افراد کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ اسی طرح رابطہ ہمسائیگی اور اخوت کے تقاضوں کے تحت یمنی عوام اور ان کی آئینی قیادت کی حمایت کے لیے مملکت کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار کی بھی بھرپور تائید کرتی ہے، تاکہ یمنی ریاست اور اس کے آئینی اداروں میں استحکام بحال ہو، پورے ملک پر اس کی خودمختاری قائم ہو اور اس مجرم گروہ اور یمن کی آئینی حکومت کے خلاف اس کی بغاوت کا خاتمہ کیا جاسکے، جس نے یمن اور اس کے عوام کو موت اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔